Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Friday, November 13, 2015

غزل

دل بیزار میں کچھ بھی نہیں ہے
مرے سنسار میں کچھ بھی نہیں ہے

یہ کس پاگل نے تم سے کہہ دیا ہے
نگاہ یار میں کچھ بھی نہیں ہے

سنا ہے بک گیا وہ شخص بھی کل
تو اب بازار میں کچھ بھی نہیں ہے

پھر اک بیوہ کی عصمت لٹ گئی ہے
نیا اخبار میں کچھ بھی نہیں ہے

وفا اخلاص قربانی مروت
تری سرکار میں کچھ بھی نہیں ہے

وہیں پہ سر بسجدہ ہو گئے سب
جہاں دربار میں کچھ بھی نہیں ہے

یقیناً مصلحت کوئی تو ہوگی
یہاں بیکار میں کچھ بھی نہیں ہے

انعام عازمی

Wednesday, November 11, 2015

غزل

اچھی باتیں کرتی ہو
بالکل میرے جیسی ہو

میں ترہت کا باشندہ
تم پٹنہ میں رہتی ہو

اپنا مزہب ایک نہیں
پر تم اچھی لگتی ہو

دنیا کا اب کیا ہوگا
تم کیوں سوچا کرتی ہو

جنس پہننا چھوڑ دیا ??
پہنو اچھی لگتی ہو

"تم تو ٹھہرو پردیسی"
ایسے گانے سنتی ہو

دنیا کتنی اچھی ہے???
کس دنیا میں رہتی ہو

ہاں میں تم سے ڈرتا ہوں
کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو

چشمہ والی لڑکی تم
کیوں غصے میں رہتی ہو

میں اک اچھا لڑکا ہوں
مجھ سے سب کہہ سکتی ہو

گرتا تارا دیکھ کے تم
کس کو مانگا کرتی ہو??

کیا تم میری غزلوں کو
شام سویرے پڑھتی ہو

بولو کچھ تو بولو تم
کیوں شرمایا کرتی ہو

مودی اچھے نیتا ہیں??
پاگل کیا کیا بکتی ہو

میں دیوانا لڑکا ہوں
تم اک پاگل لڑکی ہو

دیکھ کے تم کو جیتا ہوں
کیا تم مجھ پہ مرتی ہو??

ہم کو تم سے مطلب ہے
عشق کی ایسی تیسی ہو

جب میں غم میں ہوتا ہوں
کیا تم سچ مچ روتی ہو

دنیا میں لاکھوں غم ہیں
کیا تم بھی غم سہتی ہو

تنہائی کے عالم میں
بولو آہیں بھرتی ہو

مجھکو شب میں نیند نہیں
تم دن میں بھی سوتی ہو

کیا تم اپنی کاپی میں
میری فوٹو رکھتی ہو

سب بیگانے رشتے ہیں
بس تم اپنی لگتی ہو

لوگ محبت کہتے ہیں
اس کو تم کیا کہتی ہو

نظم

اے خدا
تجھ سے کوئی شکایت نہیں
میری قسمت میں جو تھا
وہ سب کچھ ملا
کچھ دعائیں مری
تیرے دربار میں
رد ہوئی ہیں,مگر
مجھکو پورا یقیں ہے
کبھی نہ کبھی
ان دعاؤں کا بھی
اجر مل جائیگا
اے خدا آج تک
میری قسمت مجھے
ایک پل کی خوشی
دے نہ پائی,مگر
میں یہی سوچ کر
صبر کرتا ہوں کہ
ہر گھڑی
اپنے محبوب بندوں کو تو
آزمائش میں رکھتا ہے
تاکہ انہیں
کل قیامت کے دن
انکو جنت میں
اونچی  جگہ دے سکے
اے خدا آج تک
تیری دنیا میں میں
جی رہا ہوں مگر
زندگی کس کو کہتے ہیں
جانا نہیں
میرے معبود میری ہے اک التجا
تو مجھے
زندگی بخش دے

غزل

عجیب بات ہے یہ, میرے دھیان میں بھی نہیں
کہ میرا ذکر مری داستان میں بھی نہیں

طرح طرح کے سوالوں سے دل پریشاں ہے
گلہ تو یہ ہے کہ دل امتحان میں بھی نہیں

ہمارے بیچ ہے صدیوں کا فاصلہ لیکن
یہ بات سچ ہے کوئی درمیان میں بھی نہیں

تمام شہر میں پھیلی ہوئی ہے تاریکی
کوئی چراغ  ہمارے مکان میں بھی نہیں

وہ نام جو کبھی منسوب میرے نام سے تھا
وہ نام اب مرے وہم و گمان میں بھی نہیں

خدا کو ڈھونڈ رہا ہے تو نا خداؤں میں
ترا خدا  تو میاں آسمان میں بھی نہیں

وہ ایک شخص مصیبت میں کام آئے جو
وہ ایک شخص مرے خاندان میں بھی نہیں

انعام عازمی

Sunday, October 25, 2015

غزل

گہرے  تعلقات سے کچھ فائدہ نہیں
ہم کو ہماری ذات سے کچھ فائدہ نہیں

ساری امیدیں ٹوٹ گئیں خواب مر گئے
مولیٰ مجھے حیات سے کچھ فائدہ نہیں

جو بھی ترے قریب تھے سب کوچ کر گئے
اب تیری کائنات سے کچھ فائدہ نہیں

ہے جسکا انتظار وہ آئیگا ہی نہیں
اب دن سے اور رات سے کچھ فائدہ نہیں

خود از گزشتگاں کی کہانی عجیب ہے
ان سارے واقعات سے کچھ فائدہ نہیں

میں نے کبھی نجات کی مانگی نہیں دعا
معلوم ہے نجات سے کچھ فائدہ نہیں

سب لوگ اپنے بارے میں ہیں سوچتے یہاں
یعنی کسی کی بات سے  کچھ فائدہ نہیں

انعام عازمی

Friday, October 2, 2015

غزل

کا بتائیں کہ کیسا حال ہوا
جو حقیقت تھا سب خیال ہوا

دے رہے ہیں ہمیں تسلی سب
بس یہی سوچ کر ملال ہوا

میں جو برباد کر گیا خود کو
دوسروں کیلئے مثال ہوا

قیس مارے گئے محبت میں
اور مرے ساتھ تو کمال ہوا

زندگی روز قتل کرتی رہی
موت آئی تو انتقال ہوا

تم تو تھے ہی نہیں مرے کیسے
قبر میں ببس یہی سوال ہوا

آہ ابو نہیں رہے

ابو آپ سو جائیے رات کے 12 بج چکے ہیں
بیٹا مجھے نیند نہیں آ رہی ہے آپ سو جائیں میں تھوڑی دیر میں سو جاؤنگا
اس رات ابو تھوڑے پریشان دکھ رہے تھے میں نے بارہا پریشانی کی وجہ معلوم کرنی چاہی مگر ابو نے کچھ  نہیں بتایا
رات کے ایک بجتے ہی مجھے نیند آ گئی ..
صبح جب آنکھ کھلی ایک عجیب سا شور سنائی دیا مجھے لگا سانپ نکلا ہوگا لوگ اسے مار رہے ہونگے
مگر دل کو پھر بھی سکون نہیں ملا تو میں چھت سے نیچے اتر کر یہ جاننے چلا آیا آیا آخر اتنا شور کیوں برپا ہے
وہاں کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گے گھر کے دروازے پر سیکڑوں لوگ جمع تھے میں گھر کے اند داخل ہوا تو دیکھا امی اور کچھ لوگ مل کر ابو کے تلووں کی مالش کر رہے ہیں کچھ ڈاکٹر کو کال کر رہے تھے کچھ امبولنس بلانے کی بات کر رہے میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا آخر میرے ابو کو ہوا  کیا ہے یہ بھیڑ کیوں اکٹھا ہے میں ابو کے سامنے پہنچا ابو مجھے دیکھ کر روئے جا رہے تھے مگر کچھ بول نہیں پا رہے تھے میں بار بار سوال کر رہا تھا ابو کیا ہوا ہے آپ کو بتائیے نا? ایسے نا امید ہوکر کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے? مگر میرے سوالوں کل جواب دینے والا کوئی نہ تھا
مجھے احساس ہو گیا کہ ابو پہ پھر سے پارا لائسس کا اٹیک ہوا ہے
تھوڑی دیر میں امبولنس آئی ہم ابو کو لیکر پٹنہ کیلئے روانہ ہوئے راستے بھر ﷲ سے میں ایک ہی دعا مانگتا یا ﷲ میرے ابو  کا سایا میرے سر پہ سلامت رکھنا
گاڑی ابھی حاجی پور ہی پہنچی تھی کہ ابو کی سانس تھم گئی ایک کلنک پر لوگوں نے گاڑی روک کر ڈاکٹر  سے ابو کا جائزہ لینے کو کہا ڈاکٹر نے ابو کو چیک کرنے کے بعد اپنے کیبن میں خالو ابو کو بلا کر کیا کہا مجھے نہیں معلوم جب وہ باہر نکلے انکی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور میں بارہا یہی سوال کرتا رہا ڈاکٹر نے کیا کہا ? دیکھیے یہ اچھا ڈاکٹر نہیں ہے اسکی باتوں پہ مت آئیے آپ ابو کو لیکر پٹنہ چلیے نا?  میرے سوال پر ہر کوئی مجھے گلے لگا کر رونے لگتا اور میں چیخ چیخ کر کہتا رہا  مجھے ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے مجھے ابو کی ضرورت ہے
سب لوگ پھر سے گاڑی میں بیٹھے مجھے تھوڑا سکون ملا میں اپنے ابو کو اچھے ڈاکٹر سے دکھاؤنگا یہ جھوٹے لوگ لوگ ہیں انکی باتوں میں نہیں آنا مجھے  مگر گاڑی واپس موڑ دی گئی

یہ کیا کر رہے ہیں آپ ?  میں نے کہا نا پٹنہ چلنا ہے وہاں اچھے ڈاکٹر ہیں میں جانتا ہوں

خالو ابو میرے سر پر ہاتھ رکھکر بول پڑے بیٹا ابو نہیں رہے

کیا?

ذہن میں طرح طرح کے سوال پیدا ہونے لگے کبھی میں امی کی طرف دیکھتا جو شروع سے لیکر ابتک خاموش تھیں کبھی ابو کی طرف
سوچ رہا تھا گھر جاکر اپنے چھوٹے بھائی کے سوال کیا جواب دونگا جو محض 7سال کا ہے حامدی کو کیسے بتاؤنگا کہ بھائی ہم یتیم ہوگئے آپی کو کیسے سمجھاؤنگا کہ ہمارے ابو اب نہیں ہیں رہے
ہم سیوان پہنچے جہاں 20 سال سے ابو ایک مدرسے میں شیخ الحدیث تھے اور 20 سال سے مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے
لوگوں نے کہا ہماری خواہش ہے ہم غسل دیکر جنازے کی نماز ادا کر لیں جمعہ سے پہلے ابو کو غسل دیا گیا اور جمعہ کے نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھنے کیلئے لوگ اکٹھا ہونے لگے بھیڑ کو دیکھ کر ہر جگہ چھوٹی نظر آ رہی تھی آخر میں مدارپور کالج کے فیلڈ میں جسے عام طور نیتاؤں کی ریلیوں کیلئے  استعمال کیا جاتا ہے پہلی بار نمازے جنازہ ادا کی گئی جس میں دس ہزار سے زیادہ لوگ شامل تھے
پھر ابو کو لیکر ہم اپنے آبائی وطن پوکھریرا آ گئے یہاں میرے منجھلے بھائی حامدی کے علی گڑھ سے آ جانے پر دوبارہ نمازے جنازہ ادا کی گئ اور سنیچر کے دن نماز عصر کے بعد ابو دفن کئے گئے
ﷲ انہیں جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے- آمین

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہوں جیسے میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں ایک خوفناک خواب کبھی تو صبح ہوگی کبھی تو کوئی آئیگا مجھے جگانے

مگر نہیں

مجھے اپنی پوری زندگی اسی خوفناک خواب جو ایک حقیقت ہے کہ سائے تلے گزارنی ہوگی

اب تو ہر رات سوتے وقت ایسا گمان ہوتا ہے کہ اب صبح نہیں ہوگی.ابو کے جانے کے بعد جو خلا میرے اند پیدا ہوئی ہے اسکا پر ہونا نا ممکن ہے

میرے اندر اداسی گھر کر چکی ہے میں زندگی سے مایوس ہو چکا ہوں

بس سانس لینے کا نام اگر زندگی ہے تو میں زندہ ہوں ورنہ......

انسان کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں مگر قیامت بس ایک بار آتی ہے اور ہر چیز فنا ہو جاتی ہے تمام خواب آنکھوں میں دفن ہو جاتے ہیں حسرتیں سینے میں دم توڑ دیتی ہیں
انسان کا وجود جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور پھر غم کی ایک ایسی بارش ہوتی ہے کہ صفحہ ہستی نام و نشان مٹ جاتا ہے

اور میں مٹ چکا ہوں