Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Monday, March 14, 2016

غزل

اب اپنی ذات سے بھی جدا ہو گیا ہوں میں
میں سوچنے لگا ہوں کہ کیا ہو گیا ہوں

الجھا ہوں زندگی کے مسائل میں آجکل
کچھ لوگ سوچتے ہیں خفا ہو گیا ہوں میں

میں زہر ہوں یہ بات بتائی تھی آپ نے
اب کیسے کیا ہوا کہ دوا ہو گیا ہوں میں

الزام آئینوں پہ   لگانا   فضول   ہے
میں جانتا ہوں سچ میں برا ہو گیا ہوں میں

سب کر رہے تھے میری حمایت اسی لئے
خود کی مخالفت میں کھڑا ہو گیا ہوں میں

انعام عازمی

غزل

زندگی درد کا سفر ہے یار
ہر کوئی اس سے بے خبر ہے یار

اک طرف زخم ہیں حقیقت کے
اک طرف خواب کا نگر ہے یار

خود سے بیزار ہو گیا ہوں میں
جانے کس بات کا اثر ہے یار

مجھکو اس سے نہیں کوئی مطلب
بولتا ہوں سدا۔مگر ہے یار

جانے کیوں مجھکو لیسا لگتا ہے
گھر کے اندر بھی ایک گھر ہے یار

وہ جو سب پہ یقین کرتا ہے
آدمی ہے کہ جانور ہے یار

انعام

Saturday, February 20, 2016

غزل

نہ راستہ ہے نہ منزل نہ ہم سفر کوئی
یہاں سے اٹھ کے بھلا جاے اب کدھر کوئی

اسی امید پہ  شب بھر چراغ جلتا رہا
ضرور  لوٹ کے آئے گا پھر ادھر کوئی

پتا چلے گا  اسے, ہو کے بھی نہیں ہوں میں
مجھے قریب سے دیکھے یہاں اگر کوئی

دیار خواب میں پھر سے تری صدا سن کر
تری تلاش میں بھٹکا ہے رات بھر کوئی

کسی مقام پر اے میری زندگی تجھ  سے
تو کیا کرے گی مجھے چھین لے اگر کوئی

انعام

غزل

سب لوگ جی رہے ہیں یہاں بے دلی سے کیوں
بیزار ہو گئے ہیں سبھی زندگی سے کیوں

اے میر کارواں ہمیں اتنا تو اب بتا
ہم دور ہو رہے ہر اک آدمی سے کیوں

ہے منصفین وقت کا ہر فیصلہ غلط
آواز آ رہی ہے یہی ہر  گلی سے کیوں

ویسے تو نا امید ہوئے ہیں سبھی سے ہم
لیکن مجھے گلہ ہے تو بس آپ ہی سے کیوں

تم تو سوچتے بہت ہو ذرا یہ بھی سوچنا
خطرہ ہے میری عقل کو اب آگہی سے کیوں

انعام

غزل

ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﺤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺁﺝ ﮐﻞ ﮨﻢ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﮐﺮﮐﮯ
ﮐﺎﻡ ﮨﻢ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺎﺕ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺏ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ
ﺁﭖ ﺑﯿﺠﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ
ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺁﭖ ﮨﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺁﭖ
ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ﻣﺤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ؟ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﺟﯽ ﻟﯿﻨﮕﮯ
ﺁﭖ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻣﻼﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻧﻌﺎﻡ

Monday, February 15, 2016

غزل

صحراؤں کی جو پیاس تھے وہ لوگ کیا ہوئے
جتنے وفا شناس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

یہ کس مقام پر مجھے لے آئی زندگی
جو میرے آس پاس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

اب قہقہوں سے گونج رہا ہے تمہارا شہر
وہ جو بہت اداس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

ہم سے تو نا امید ہے ہر شخص اب مگر
وہ جو امید و آس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

بانوئے شہر جسم ذرا یہ بتا مجھے
جو درر کی لباس تھے وہ لوگ کیا ہئے

عنوان داستان کا میں تھا ابھی بھی ہوں
جو لوگ اقتباس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

ویسے تو نا امید ہوئے ہیں سبھی سے ہم
جو آخری قیاس تھے وہ لوگ کیا ہوئے

انعام عازمی

غزل

بس خنجر ہی خنجر دیکھنا پڑتا ہے
اکثر ایسا منظر دیکھنا پڑتا ہے

جب چہروں کے رنگ بدلنے لگتے ہیں
تب چہروں کے اندر دیکھنا پڑتا ہے

قسمت میں وہ لمحیں بھی ہوتے ہیں جب
آئینہ بھی ڈر کر دیکھنا پڑتا ہے

بڑھ جاتے ہیں اپنی حد سے زیادہ جو
سب کچھ ان کو جھک کر دیکھنا پڑتا ہے

دل وہ گھر ہے جس میں جانے سے پہلے
باہر رہکر اندر دیکھنا پڑتا ہے

جو دکھتا ہے ویسا ہوتا ہے لیکن
کچھ منظر کو ہٹ کر دیکھنا پڑتا ہے