Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Thursday, June 9, 2016

غزل

دل ہے اسیر یاس کہاں جائیں بولیے
ہے روح بھی اداس کہاں جائیں بولئے

اس شہر نامراد سے رخصت ہوا ہے جو
تھا زندگی کی آس,کہاں جائیں بولیے

پہلے ہم اس کی یاد سے کرتے تھے گفتگو
وہ بھی نہیں ہے پاس کہاں جائیں بولیے

دل تو فراق یار میں مرنے کو ہے بضد
ہے کون غم شناس کہاں جائیں بولیے

آئے گی پھر بہار چمن میں خزاں کے بعد
یہ ہے محض قیاس کہاں جائیں بولیے

صحرا میں لا کے چھوڑ گئی زندگی ہمیں
ہے مدتوں کی پیاس کہاں جائیں بولیے

یادوں کی تیز دھوپ ہے ہر سمت شہر میں
ہے زخم بے لباس کہاں جائیں بولیے

Tuesday, June 7, 2016

غزل

ہر گھڑی کی ہے خودکشی میں نے
یوں گزاری ہے زندگی میں نے

وہ مرے ساتھ تھا مگر اس کی
خوب محسوس کی کمی میں نے

کیسے منسوب ہو گئی مجھ سے
بات وہ جو نہیں کہی میں نے

ہو کے  خاموش سارے لوگوں کی
بند کر دی تھی بولتی میں نے

آج پھر تیری یاد آئی ہے
آج پھر اپنی جان لی میں نے

نام جس میں لکھا ہوا تھا ترا
پھاڑ دی ہے وہ ڈائری میں نے

ہے تعجب کہ اس سے ہو کے جدا
ایک سگریٹ بھی نہ پی میں نے

انعام عازمی

غزل

نہ جانے کس طرف ہم جا رہے ہیں
ہمیں سب دیکھ کر گھبرا رہے ہیں

بلندی کا نشہ جن کو چرھا تھا
وہ سارے لوگ نیچے آ رہے ہیں

چمن کس کے حوالے کر دیا ہے
جو سارے پھول اب مرجھا رہے ہیں

ہماری قوم اندھی ہو گئی ہے
تو ہم کیوں آئینہ دکھلا رہے ہیں

تو میرے شہر آیا ہے جب سے
سہانے خواب سب کو آ رہے ہیں

کہاں لے آئی ہے اے زندگی تو
ہم اپنی ذات سے ٹکڑا رہے ہیں

غزل

ہر سو ہے بس ایک صدا ہم ہار گئے
ایسا آخر جانے کیا ہم ہار گئے

اس کو خوش کرنے کی خاطر ہی اس سے
جنگ لڑی اور مان لیا ہم ہار گئے

بول رہا تھا اس سے میں خوش رہنا تم
پوچھ رہی تھی پاگل,کیا ہم ہار گئے

یادوں کے کھنڈر سے اب بھی راتوں کو
آتی ہے غمگین صدا ہم ہار گئے

جنگ انا کی جیت گئے دونوں لیکن
دونوں نے ہر بار کہا ہم ہار گئے

جانی بس اک شخص کو پانے کی خاطر
کیا بتلائیں کیا سے کیا ہم ہار گے

پتھر کے سب لوگ تھے اس کی بستی میں
دل شیشہ تھا ٹوٹ گیا ہم ہار گئے

غزل

آتی ہے اب کدھر سے ہوا ہم کو اس سے کیا
کیوں بجھ گیا چراغ وفا ہم کو اس سے کیا

تم کو خوشی سے واسطہ ہے اے مرے عزیز
ہم ہیں اسیر رنج و بلا ہم کو اس سے کیا

جب ہم نے دی صدا تو رکا ہی نہیں کوئی
اب دے رہا ہے کون صدا ہم کو اس سے کیا

اس شہر حادثات میں جینا کمال ہے
کیوں چاک ہو گئی ہے قبا ہم کو اس سے کیا

اب وہ بھی وہ نہیں رہا نہ ہم ہی ہم رہے
رشتہ جو درمیان میں تھا ہم کو اس سے کیا


جب چارہ گر نہیں رہا اس شہر میں کوئی
کس نے دیا ہے زخم نیا ہم کو اس سے کیا

اب بھی وہ شخص جان سے زیادہ عزیز ہے
گو لاکھ ہم لگائیں صدا "ہم کو اس سے کیا"

انعام عازمی

Wednesday, May 18, 2016

غزل

سبھی یہ سوچ رہے ہیں میں کیا بناؤں گا
میں سب کی عقل سے کچھ ماورا بناؤں گا

میں جانتا ہوں ہوا سے ہے دشمنی میری
مگر بناؤں گا جب بھی دیا بناؤں گا

کھڑی ہے بیچ میں دیوار جو زمانے سے
میں توڑ دوں گا اسے راستہ بناؤں گا

بھلا بنانے کی ترکیب سوچ لی میں نے
سو اب مٹا کے میں سب کچھ نیا بناؤں گا

میں خود کو دور لگاتے ہوئے دکھاؤں گا
اسے پہاڑ پہ بیٹھا ہوا بناؤں گا

مجھے بنانی ہے تصویر اپنی ندرت کی
میں اس کے ماتھے پہ اک بندیا بناؤں گا

نہ خود کو جون بناؤں گا نہ علی زریون
میں اپنے آپ کو سب سے جدا بناؤں گا

انعام عازمی

غزل

ﻣﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ

ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﮨﻼﮎ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﺮﯼ
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮨﯽ ﻏﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ

ﻗﺎﺗﻞ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺟﯿﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ
ﮨﻢ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﺮ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ

ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﺭﺑﻂ ﻭ ﺿﺒﻂ ﺗﮭﮯ ﺑﺎﮨﻢ , ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ

ﮨﻢ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ
ﺁﺋﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ

ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ