Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Sunday, July 3, 2016

غزل

بستیاں چھوڑ کے صحرا میں جو آئے ہوئے ہیں
زندگی تیرے ہی یہ لوگ ستائے ہوئے ہیں

جانے والے کبھی واپس نہیں آتے پیارے
لوگ پاگل ہیں جو امید لگائے ہوئے ہیں

جو دیا تم جلایا تھا دیار دل میں
ہم اسے اب بھی ہواؤں سے بچائے ہوئے ہیں

یہ الگ بات ہے تعبیر نہیں ہے ممکن
ہم بھی آنکھوں میں کئی خواب سجائے ہوئے ہیں

ہر طرف شہر میں چھائی ہے گھٹا یادوں کی
بارش غم میں سبھی لوگ نہائے ہوئے ہیں

اب بھی وہ شخص ہمیں یاد بہت آتا ہے
ویسے ماضی کی ہر اک چیز بھلائے ہوئے ہیں

میں نے سوچا تھا محبت سے ملیں گے ہم لوگ
آپ تو جنگ کا ماحول بنائے ہوئے ہیں

انعام عازمی

غزل

غزل

گھٹا جب رنج کی  چھائے تو واپس لوٹ آنا تم
تمہیں جب چین نہ آئے تو واپس لوٹ آنا تم

میں تم سے ضد نہیں کرتا کہ واپس لوٹنا ہوگا
تمہارا دل اگر چاہے تو واپس لوٹ آنا تم

غموں کی دھوپ میں ہر دم تمہارا ساتھ دینگے ہم
سہانی شام ڈھل جائے تو واپس لوٹ آنا تم

سنو سورج محبت کا کبھی ڈھلنے لگے ,یا پھر
بڑھیں جب درد کے سائے تو واپس لوٹ آنا تم

ابھی آباد ہے گلشن  تمہارا خوش رہو جاناں
اگر ویران ہو جائے تو واپس لوٹ آنا تم

اداسی اک سمندر ہے سنو تم کو اگر اس کے
کنارے پر کوئی لائے تو واپس لوٹ آنا تم

مبارک ہو نیا کردار جان من تمہیں لیکن
کہانی ختم ہو جائے تو واپس لوٹ آنا تم

انعام عازمی

عید آئی ہے

سنو بابا
تمہیں معلوم ہی ہوگا
کہ پھرسے عید آئی ہے
میں بچوں کی طرح تم سے بہت کچھ مانگنے والا نہیں بابا
مرے بابا
مجھے عیدی نہیں لینی
نئے کپڑوں کی خواہش بھی نہیں مجھکو
مگر بابا
تمہیں تو یاد ہوگا نا
کہ جب بھی عید آتی تھی
تم اپنے ہاتھ سے  ہم تینوں بھائی  کو سدا خوشبو لگاتے تھے
مرے بابا
مجھے خوشبو لگا دونا
مرے بابا
کوئی جب اپنے بابا سے نئے کپڑے سلا دینے کو کہتا ہے
تمہاری یاد آتی ہے
کوئی جب اپنے بابا سے یہ کہتا ہے میں  عیدی اتنے پیسوں سے ذرا بھی کم نہیں لوں گا
تمہاری یاد آتی ہے
مرے بابا
کسی بیٹے کو جب بھی باپ کی انگلی کو تھامے عید گاہ جاتے ہوئے میں دیکھتا ہوں تو
تمہاری یاد آتی ہے
کوئی جب اپنے بیٹوں کے سروں پر ہاتھا رکھ کر کامرانی کی دعائیں دینے لگتا ہے
تمہاری یاد آتی ہے
سنو بابا

اگر ممکن ہو واپس لوٹ آؤ نا
تمہیں معلوم ہی ہوگا
کہ پھرسے عید آئی ہے

انعام عازمی

Friday, June 24, 2016

امجد صابری کی یاد میں

امجد صابری کی یاد میں

کرم مانگتا تھا عطا مانگتا تھا
وہ رحمت کی ہر سو گھٹا مانگتا تھا

خدا سے خدا کی رضا مانگتا تھا
وہ بس دامن مصطفٰے مانگتا تھا

اندھیروں میں بدرالدجٰی مانگتا تھا
وہ جب مانگتا تھا بھلا مانگتا تھا

نہ شہرت کی خواہش نہ دولت لالچ
رحیمی کا صدقہ سدا مانگتا تھا

وہ ہاتھوں کو اپنے اٹھاکر ہمیشہ
مریضوں کی خاطر شفا مانگتا تھا

بلاؤں سے ہم کو سدا دور رکھنا
یہی اپنے رب سے دعا مانگتا تھا

کیا کس لئے قتل امجد کا تم نے
ارے قاتلوں تم سے کیا مانگتا تھا

انعام عازمی

Saturday, June 11, 2016

غزل

گرے گی سر سے تو پگڑی نہیں اٹھاؤں گا
میں جھک کے چیز کوئی بھی نہیں اٹھاؤں گا

میں جانتا ہوں قبیلے میں سب منافق ہیں
سو میں کسی پہ بھی انگلی نہیں اٹھاؤں گا

مری انا بھی اجازت مجھے اگر دے دے
ضمیر بیچ کے کچھ بھی نہیں اٹھاؤں گا

قبیلہ عشق کے حاکم سے جاکے کہہ دو یہ
میں اس کے پاپ گٹھری نہیں اٹھاؤں گا

میں اپنے شبد سے دشمن کی جان لے لوں گا
میں اپنے ہاتھ میں برچھی نہیں اٹھاؤں گا

میں خوش ہوں اس کی ودائی پہ اور دعا گو ہوں
مگر میں یار کی ڈولی نہیں اٹھاؤں گا

مجھے امیر بنایا گیا ہے قافلہ کا
میں تیز دھوپ میں چھتری نہیں اٹھاؤں گا

جو دیکھنا ہے اسے سامنے سے دیکھوں گا
نظر کسی پہ بھی ترچھی نہیں اٹھاؤں گا

انعام عازمی

غزل

زخمی ہے روح آنکھوں میں پانی ابھی بھی ہے
جو کچھ نہیں ہے اس کی نشانی ابھی بھی ہے

زندہ نہیں ہوں زندگی پھر بھی ہے ساتھ ساتھ
کردار مر گیا ہے کہانی ابھی بھی ہے

اک شخص آگیا ہے نیا ہم کو اس سے کیا
کمرے میں ساری چیز پرانی ابھی بھی ہے

امید کی لکیر سبھی مٹ گئی مگر
دل اس کے انتظار میں جانی ابھی بھی ہے

بارات وحشتوں کی بھلا کیسے پار جائے
دریائے ذہن و فکر میں پانی ابھی بھی ہے

ہے داستان عشق یہی مختصر انعام
راجا کا قتل ہو گیا رانی ابھی بھی ہے

انعام

Thursday, June 9, 2016

غزل

ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ؟
ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ؟

ﮐﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺮﺍ
ﻣﻄﻠﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺮﮮ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ

ﺍﺷﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ
ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮔﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ؟

ﮐﻞ ﺷﺐ ﮨﻮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﮞ
ﺳﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ

ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺩﮬﻮﻝ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ
ﮔﺰﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ

ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ
ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮑﻮ ﯾﺎﺭ ﻣﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ

ﭼﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻏﻢ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﺎ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ
ﮐﯿﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﮯ ﮔﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ

ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ