Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Monday, July 11, 2016

غزل

منزل ہوں,راستہ ہوں نہیں جانتا ہوں میں
اے میرے دوست کیا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

ہے دل مرا اداس مری آنکھ اشک بار
کس غم میں مبتلا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

میرے خیال و خواب میں رہتا ہے کون اب
میں کس کو سوچتا نہیں جانتا ہوں میں

مقتل سے آ رہی ہے صدا میرے نام کی
کیوں قتل ہو رہا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

ٹکڑا رہا ہوں یادوں کے پتھر سے بار بار
کس سمت آ گیا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

سب نا امید ہوکے ترے شہر سے گئے
میں کس لئے رکا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

یہ کون مجھکو  رائیگاں کرنے کو ہے بضد
میں کس کو مل گیا ہوں نہیں جانتا ہوں میں

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment