Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Monday, August 7, 2017

غزل

سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا
تو اندھیروں کے نزدیک جاتا انہیں روشنی بانٹتا

تیرے ہوتے ہوئے ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے تھے عزیز
کاش تو ہر گھڑی ہر جگہ ہم سے موجودگی بانٹتا

خالقا !! مجھکو معلوم ہوتا اگر آخری موڑ ہے
میں بچھڑتے ہوئے سارے کردار کو زندگی بانٹتا

وقت نے بیڑیاں ڈال رکھی تھیں پاؤں میں ورنہ تو میں
شہر کی ساری گلیوں کو ہر وقت آوارگی بانٹتا

میرے بھائی اگر درمیاں اپنے دیوار اٹھتی نہیں
تیرا دکھ بانٹتا اور تجھ سے میں اپنی خوشی بانٹتا

مجھ کو کمرے کی دیوار, کھڑکی,کلینڈر سمجھتے تھے بس
اور کوئی نہیں جن سے میں اپنی افسردگی بانٹتا

جو اذیت کے خانے میں اب رکھ رہے ہیں محبت کو ,کاش
عشق ہونے سے پہلے انہیں میر کی شاعری بانٹتا

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment