Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Saturday, December 5, 2015

غزل

وہ جو اک حقیقت تھا خواب بن گیا ہے کیا
زندگی میں پھر کوئی حادثہ ہوا ہے کیا

شہر کی فضاؤں میں یہ اداسیاں کیسی
اسکی یاد میں ابتک شہر رو رہا ہے کیا

آجکل میں خود سے بھی دور دور رہتا ہوں
زندگی کا ہر قصہ ختم ہو رہا ہے کیا

سارے خواب آنکھوں سے ہو کے آ گئے باہر
کچھ سمجھ نہیں آتا۔جانے ماجرا ہے کیا

اک عجیب  بے چینی میرے دل میں رہتی ہے
وقت کی ہتھیلی پر حادثہ لکھا ہے کیا

شہر میں کہیں سے بھی اب صدا نہیں آتی
میرا چاہنے والا کوچ کر  گیا ہے کیا

آتے جاتے چہروں کو ایسے دیکھتے کیوں ہو
کوئی بے طرح پھر سے یاد آ رہا ہے کیا

کب تلک رہوگے تم انتظار میں اسکے
جا کے اپنی دنیا میں کوئی لوٹتا ہے کیا

کیوں کلام میں تیرے سوز و ساز ہے انعام
درد کی حدوں کو تو پار کر گیا ہے کیا

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment