Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Saturday, April 9, 2016

نظم

آج کل زندگی
ہے عجب راہ پر گامزن
یہ کہاں جائیگی کچھ خبر ہی نہیں
آج کل ہر گھڑی
ہے تردد کا احساس دل میں مکیں
چیختی ہے صدا میرے اندر کوئی
اک کسک سی ابھرتی ہے دل میں مرے
جیسے میں
اک اداسی کے گہرے سمند میں گر جاؤں گا
گر کے مر جاؤں گا
میں اگر بچ گیا
تو بھی کیا فائدہ
کوئی ایسا نہیں
جو اداسی کے گہرے سمندر سے باہر نکالے مجھے
جو مرا ساتھ دے
جو سنبھالے مجھے
خیر یہ بات ہے بعد کی
یہ محض واہمہ ہے مرا
ان دنوں تو فقط ایک ہی ڈر ہے مجھ کو کہ میں
بڑھ رہا ہوں جدھر
میری منزل کا وہ راستہ ہی نہیں
سچ کہوں ان دنوں
ایسا لگنے لگا ہے مجھے
جیسے اک آگ مجھ میں بھڑک جائے گی
میری ہر خواہشیں راکھ ہو جائیں گی
میرے ہر خواب آنکھوں میں ہی دفن ہو جائیں گے
اور میرا وجود
جو اب ہے ہی نہیں
ختم ہو جائے گا

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment