Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Tuesday, April 5, 2016

غزل

جانے والا بھول چکا ہے
کوئی رستہ دیکھ رہا ہے

خاموشی اب بول رہی ہے
چہرے پہ سب کچھ لکھا ہے

بیچ میں اک دیوار کھڑی ہے
دونوں جانب سے رستہ ہے

آنکھ حقیقت دیکھ رہی ہے
ذہن پھر بھی خواب سجا ہے

"سپنے بھی سچ ہو جاتے ہیں"
جھوٹ ہے یہ,کس نے لکھا ہے؟

چھوٹی ہے چاہت کی چادر
غم کا پاؤں بہت لمبا ہے

نا بینوں کے شہر میں جاکر
کس نے آئینہ رکھا ہے

اس کے  جانے سے دنیا میں
کتنا سناٹا پھیلا ہے

نا امیدی کے آنچل میں
امیدوں کا  ایک دیا ہے

غم کی ایک کہانی  پھر سے
وقت ابھی لکھنے بیٹھا ہے

ڈوب گیا ہے سورج شاید
چاروں جانب اندھیرا ہے

No comments:

Post a Comment