Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Tuesday, June 7, 2016

غزل

ہر گھڑی کی ہے خودکشی میں نے
یوں گزاری ہے زندگی میں نے

وہ مرے ساتھ تھا مگر اس کی
خوب محسوس کی کمی میں نے

کیسے منسوب ہو گئی مجھ سے
بات وہ جو نہیں کہی میں نے

ہو کے  خاموش سارے لوگوں کی
بند کر دی تھی بولتی میں نے

آج پھر تیری یاد آئی ہے
آج پھر اپنی جان لی میں نے

نام جس میں لکھا ہوا تھا ترا
پھاڑ دی ہے وہ ڈائری میں نے

ہے تعجب کہ اس سے ہو کے جدا
ایک سگریٹ بھی نہ پی میں نے

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment