Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, February 8, 2017

غزل

یہ شہر دل نہیں,مگر ٹرین روک دی گئی
اتر جا میرے ہم سفر ٹرین روک دی گئی

میں پٹریوں پہ آگیا تھا جان دینے کیلئے
کسی کی پڑ گئی نظر ٹرین روک دی گئی

سب اپنی اپنی منزلوں کو سوچنے میں محو ہیں
کسی کو یہ نہیں خبر ٹرین روک دی گئی

وہ شخص آ گیا نظر ہمیں سفر کے درمیاں
ہر ایک چین کھینچ کر ٹرین روک دی گئی

پلیٹ فارم پر ابھی یہ بات عام کی گئی
کہ پر خطر ہے رہگزر ٹرین روک دی گئی

تھا خوفناک حادثہ سفر میں پیش آنے کو
مگر صحیح وقت پر ٹرین روک دی گئی

انعام

No comments:

Post a Comment