Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Friday, March 10, 2017

غزل

دل پر ایسے وحشت طاری ہو رہی ہے
جینے میں ہر پل دشواری ہو رہی ہے

کون یہاں پر نوحہ پڑھنے آیا تھا
قبرستان میں آہ و زاری ہو رہی ہے

کام پڑا تو یاد کئے پھر بھول گئے
سب لوگوں کو یہ بیماری ہو رہی ہے

میری چیزیں مجھکو دینے کی خاطر
حیرت ہے اب رائے شماری ہو رہی ہے

دریا خود ہی صحرا بنتا جا رہا ہے
اور پاگل مچھلی بیچاری ہو رہی ہے

تشنہ لب کی پیاس بجھانے کی خاطر
ایک ندی صحرا سے جاری ہو رہی ہے

اس کے خواب کی عادت اتنی پڑ گئی ہے
دن میں سونے کی تیاری ہو رہی ہے

لڑکی اپنا درد سنانے آئی ہے
اور آواز ہماری بھاری ہو رہی ہے

No comments:

Post a Comment