Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Tuesday, October 11, 2016

غزل

کیا ہے وجہہ خامشی یہ سب کہاں سمجھیں گے لوگ
ہم نہ بولیں گے تو ہم کو بے زباں سمجھیں گے لوگ

جھوٹ پہ ایمان لاتے جا رہیں جس طرح
وقت آئے گا زمیں کو آسماں سمجھیں گے لوگ

رائیگاں جائیں گی سب قربانیاں اپنی یہاں
دیکھنا اک دن ہمیں کوہ گراں سمجھیں لوگ

آؤ لکھیں نام اپنا وقت کی دیوار پر
ایک دن ہم کو بھی ورنہ بے نشاں سمجھیں گے لوگ

میں صحفیہ عشق کا تم ہو محبت کی کتاب
اپنے سارے لفظ کو وہم و گماں سمجھیں گے لوگ

اے مکین دل ٹھہر,مت کوچ کر اس شہر سے
تیرے جانے سے ہمیں خالی مکاں سمجھیں گے لوگ

تم مرے بارے میں دنیا سے کبھی مت بولنا
تم ہی سوچو!! کیا ادھوری داستاں سمجھیں گے لوگ؟

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment