Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, January 18, 2017

غزل

اتر گئے ہیں مگر دھیان ریل گاڑی میں ہے
جو اپنے پاس تھا سامان ریل گاڑی میں ہے

ابھی ہوا ہے یہ اعلان آگے خطرہ ہے
عجیب خوف میں ہر جان ریل گاڑی میں ہے

یہ سوچنا ہے کہ کردار میرا کیا ہوگا
نئی کہانی کا عنوان ریل گاڑی میں ہے

پلیٹ فارم پہ سب اس کے انتظار میں ہیں
نہ جانے کون سا انسان ریل گاڑی ہے

اترنے والے سبھی سوگوار لگتے ہیں
سنا ہے میر کا دیوان ریل گاڑی میں ہے

کسی نے وقت سے پہلے ہی چین کھینچ دی ہے
ہر ایک شخص پریشان ریل گاڑی میں ہے

یقین کیجئے پچھلے جنم ملے تھے ہم
ہماری آپ کی پہچان ریل گاڑی میں ہے

انعام

No comments:

Post a Comment