Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, January 18, 2017

غزل

وقت تو اب ہر وقت تماشہ کرتا ہے
تو کیوں اتنا دھیان سے دیکھا کرتا ہے

بس یہ سوچ کہ ہم دونوں نے صبر کیا
وہ جو بھی کرتا ہے اچھا کرتا ہے

پیار-محبت پیٹ نہیں بھر سکتے دوست
روزی روٹی کی خاطر کیا کرتا ہے؟

ہر دم کار میں جانے والی لڑکی کا
پاگل اسکوٹی سے پیچھا کرتا ہے

اس منزل کو جانے والے جانتے ہیں
رستہ کیسے نا نا نا نا کرتا ہے

کیسے تیر کے دریا پار کرے گا,جو
کشتی بھی رسی سے باندھا کرتا ہے

یار میں جس کو ہر دم سوچتا رہتا ہوں
میرے بارے میں کیا سوچا کرتا ہے

تشنہ لب کیوں میرے سپنے دیکھتے ہیں
صحرا بھی کیا پیاس بجھاس کرتا ہے

فلموں میں سب جھوٹ نہیں ہوتا ہے دوست
وہ بھی مجھکو ایسے دیکھا کرتا ہے

No comments:

Post a Comment