Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Saturday, August 6, 2016

غزل

خوشی کی ناؤ پہ غم کو سوار کر رہے تھے
ہم اک صدی سے ترا انتظار کر رہے تھے

اسی لئے تو پرندوں نے بد دعا دی تھی
تمام لوگ درختوں پہ وار کر رہے تھے

جو ایک بات مجھے رنج دینے والی تھی
مرے عزیز وہی بار بار کر رہے تھے

جو تیر سکتے تھے کشتی کے انتظار میں تھے
جو ڈوب سکتے تھے دریا کو پار  کر رہے تھے

نہ میرے دوست ,نہ دشمن,نہ میرے اپنے تھے
وہ اور لوگ تھے جو مجھ سے پیار کر رہے تھے

No comments:

Post a Comment