Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Sunday, July 9, 2017

نظم

پیارے ابو
سوچ رہا تھا
عید کے دن اک نظم لکھوں گا
اس میں ساری بات لکھوں گا
کیسے کیسے یاد کیا ہے آپ کو میں نے
آپ کے زندہ نہ ہونے پر کب کب میں گھنٹوں رویا ہوں
کیسے میرے دن گزرے ہیں
کیسے میری رات کٹی ہے
کب کب یہ احساس ہوا کہ باپ کا سایا اٹھ جانے سے
اپنوں میں بھی بیگانہ ہونا پڑتا ہے
کیسے زندہ ہوکر ہر لمحہ مرنا پڑتا ہے
لیکن ابو
ڈر لگتا ہے
میری نظم کا کوئی مصرع چیخ اٹھا تو
مجھ پر جان لٹانے والے
کیا سوچیں گے
کیا سمجھیں گے
پیارے ابو
چھوٹی موٹی کچھ باتیں ہیں
اور یہ سب تو ہوتی رہتی ہیں
ہم سب خوش ہیں

ایک کمی ہے
آپ نہیں ہیں

No comments:

Post a Comment