Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, May 31, 2017

غزل

یہ جو ہم جبہ و دستار سنبھالے ہوئے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ بیکار سنبھالے ہوئے ہیں

تجھکو معلوم نہیں تیری ہنسی کو اب تک
تیرے لب پر ترے غم خوار سنبھالے ہوئے ہیں

ہم کو معلوم ہے ٹوٹی تو قیامت ہوگی
اس لئے بیچ کی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں

کل جہاں آپ نے بیچا تھا ہمیں آج وہیں
ہم خریدار ہیں بازار سنبھالے ہوئے ہیں

بس یہی بات  مجھے سب سے بری لگتی ہے
یار کو بزم میں اغیار سنبھالے ہوئے ہیں

ہائے کیا عشق کا منظر ہے مری آنکھوں میں
پھول کو شاخ پہ کچھ خار سنبھالے ہوئے ہیں

ہم نہیں لوٹتے عزت تری اجلاسوں میں
شاعری ہم ترا معیار سنبھالے ہوئے ہیں

No comments:

Post a Comment