Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, May 31, 2017

غزل

جب سے مرنے کی اداکاری دکھانے لگا ہے
دل کہانی میں سمجھ داری دکھانے لگا ہے

میں اسے تحفے میں آیا ہوں محبت دینے
وہ مجھے درد کی الماری دکھانے لگا ہے

پیرہن کاغزی پہناکے مجھے عشق مرا
جانے کیوں ہجر کی چنگاری دکھانے لگا ہے

اس لئے ہاتھ میں پتھر لئے پھرتے ہیں لوگ
آئنیہ چہرے کی بیماری دکھانے لگا ہے

یہ سفر اس لئے دشوار ہوا جا رہا ہے
راستہ آگے کی دشواری دکھانے لگا ہے

اس تعلق کو نبھانا ہے منافق ہونا
کیونکہ دل آپ سے بیزاری دکھانے لگا ہے

No comments:

Post a Comment