Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, May 31, 2017

غزل

اپنے ہونے کی نشانی سے الگ ہو رہا ہے
میرا کردار کہانی سے الگ ہو رہا ہے

تپتے صحراؤں کا کیا حشر ہوا کرتا ہے
اس کو سمجھاؤ جو پانی سے الگ ہو رہا ہے

اب مری بات کا مطلب نہیں ہوتا کچھ بھی
لفظ اس طرح معانی سے الگ ہو رہا ہے

یاں سبھی لوگ پلٹتے ہیں بہاروں کا ورق
سو دل اوراق خزانی سے الگ ہو رہا ہے

جس نے موجوں کے حوالے مری کشتی کر دی
خود ہی دریا کی روانی سے الگ ہو رہا ہے

No comments:

Post a Comment