Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Wednesday, October 4, 2017

غزل

کوئی  بتائے کہ بچنے کی اب دعا کیا ہے
میں جانتا ہوں کہانی میں آگے کیا کیا ہے

مجھےتو  نیند بھی ہر دم جگائے رکھتی ہے
خدا ہی جانے مری آنکھ کو ہوا کیا ہے

یہ کون  لوگ ہیں ؟بس ٹوکتے ہی رہتے ہیں
کوئی بتائے مجھے ان کا مسلئہ کیا ہے

اے زندگی ترے بائیس سال کاٹ کہ بھی
سمجھ سکا نہیں تیرا المیہ کیا ہے

یہ رنج و غم یہ اداسی یہ درد کا منظر
حیات موت نہیں ہے تو پھر بتا کیا ہے

پھنسی ہوئی ہے مری روح جسم کے اندر
وہ جسم جس پہ ابھی بوجھ جانے کیا کیا ہے

دم الست تو میں کہہ چکا ہوں تو رب ہے
تو وقت نزع سوالوں کا سلسلہ کیا ہے

No comments:

Post a Comment