Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Saturday, November 14, 2015

غزل


عمار اقبال کی زمین پر میری کوشش

دل پرستی سے عشق ہو گیا ہے
یعنی غلطی سے عشق ہو گیا ہے

جب سے دیکھا ہے اسکی آنکھوں کو
مئے پرستی سے عشق ہو گیا ہے

میں مسافر ہوں اس لئے مجھکو
راہ چلتی سے عشق ہو گیا ہے

بس یہی بات ہے اذیت کی
خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے

سن مرے خواب والی لڑکی سن
تیرے جیسی سے عشق ہو گیا ہے

ہوں پرانے خیال کا مجھکو
ایسی ویسی سے  عشق ہو گیا ہے

بس مجھے ایک شخص کی خاطر
"ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے"

اب کنارے کی آرزو کیسی
مجھکو کشتی سے عشق ہو گیا ہے

دیکھ کر سادگی بھکارن کی
تنگدستی سے عشق ہو گیا ہے

انعام عازمی

No comments:

Post a Comment