Bol ke lab azad hain tere

Its hight time to unite ourselves to fight against all communal forces

Save India From BJP

Sunday, November 29, 2015

طرحی غزل

اس نے جب چھوڑ دیا مجھکو سسکنے کیلئے
ہے کہانی میں یہی موڑ بچھڑنے کیلئے

تم محبت کی کوئی شمع جلاکر دیکھو
ہم تو پروانے ہیں آ جائینگے جلنے کیلئے

فرقت یار  میں  جو حال ہوا ہے اپنا
اب تو اک رات ہی کافی ہے بکھرنے کیلئے

ایسے حالات میں دشوار ہے جینا بالکل
حادثہ کوئی تو ہو پھر سے سنبھلنے کیلئے

ہم جہاں کے ہیں وہیں ہم کو چلے جانا ہے
زندگی ہم کو عطا کی گئی مرنے کیلئے

سچ بتاؤں تو مجھے ان سے بہت خطرہ ہے
وہ جو آتے ہیں مرے زخم کو بھرنے کیلئے

لرکھڑاتے ہوئے چلنا ہے یہاں کا دستور
حوصلہ چاہئیے اس شہر میں چلنے کیلئے

میں نے امید کی ہر شمع بجھا دی جاناں
دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کیلئے

زندگی نے جو مجھے زخم دیا ہے انعام
موت کافی نہیں اس زخم کو بھرنے کیلئے

No comments:

Post a Comment